اے مرے دوست


اے مرے دوست تجھے رسم وفا یاد نہیں
کتنےمقتول ہوئے تیغ جفا یاد نہیں
سر بازار یہ مقتل جو بنا رکھا ہے
کیا کوئی خوف خدا ، روز جزا یاد نہیں
مرے حاکم تیرامحکوم ہوں لیکن تجھ کو
حرف تعزیرسنا حرف دعا یاد نہیں
قوم کا جذب جنوں عہد وفا یاد نہیں
اے مرے دوست تجھے رسم وفا یاد نہیں

یہ نظم میرے خالو  پاشا حسینی نے 23 مارچ کو لکھی تھی جوآج پوسٹ کر رہا ہوں۔

4 responses to this post.

  1. افتخار اجمل بھوپال's avatar
  2. Muhammad Yasir AliM's avatar

    بہت ہی خوب صورت اور حقیقت کی ترجمان تحریر ہے
    سر بازار یہ مقتل جو بنا رکھا ہے
    کیا کوئی خوف خدا ، روز جزا یاد نہیں

    جواب دیں

  3. JaveriA's avatar
  4. ارتقاءِ حيات's avatar

    وہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہی یعنی وعدہ نِباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    وہ جو لُطف مجھ پہ تھے پیشتر، وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر
    مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    وہ نئے گِلے، شکائتیں، وہ مزے مزے کی حکائتیں
    وہ ہر ایک بات پہ رُوٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    کبھی بیٹھے سب میں جو رُوبرو، تو اشارتوں ہی سے گفتگو
    وہ بیان شوق کا بَرملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بُری لگی
    تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم کو تُم سے بھی راہ تھی
    کبھی ہم بھی تم تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    سُنو ذکر ہے کئی سال کا، کہ کیا اِک آپ نے وعدہ تھا
    سو نباہنے کا تو ذِکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    وہ بگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
    وہ نہیں نہیں کہ ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    جسے آپ گِنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے با وفا
    میں وہی ہوں مومن مُبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    جواب دیں

تبصرہ کریں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں